مکمل تفصیلات

اسرائیل میں بدھ کے روز مرکزی انتخابی کمیٹی نے وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو کی جانب سے عرب اکثریتی جماعتوں پر لگائے گئے فراڈ کے الزامات کو رد کر دیا۔ یہ تنازعہ 27 اکتوبر کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جن کے نتائج نے کسی ایک جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہیں دی۔

کمیٹی نے بتایا کہ اس نے شکایات موصول ہونے کے بعد 9,069 پولنگ اسٹیشنز کا آڈٹ کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ اعلان شدہ نتائج ووٹروں کی مرضی کی درست نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے مطابق سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمع کرائی گئی تمام شکایات کا جائزہ لیا گیا اور انتخابی عمل کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

دوسری جانب صدر اسحاق ہرزوگ دوپہر 12 بجے (1000 GMT) باضابطہ طور پر انتخابی نتائج وصول کریں گے۔ وہ اسی بنیاد پر یہ طے کریں گے کہ حکومت بنانے کے لیے پہلا موقع نتن یاہو کو دیا جائے یا ان کے حریف گاڈی آئزن کوٹ کو۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2042064/israel-election-commission-rejects-netanyahu-charges-of-fraud

عوامی اثرات

یہ فیصلہ اسرائیلی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ الزامات اور جوابی تردید کا یہ سلسلہ حکومت سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ جب کسی انتخابات کے نتائج پر اعتماد متنازع ہو جائے تو صرف سیاست دان ہی نہیں، ووٹر بھی بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں کہ ان کا ووٹ واقعی فیصلہ کن ثابت ہوا یا نہیں۔

اس کیس میں مسئلہ صرف ایک جماعت یا ایک رہنما تک محدود نہیں، بلکہ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ تقسیم شدہ پارلیمان میں حکومت بنانے کا اختیار کس کے پاس جائے گا۔ اسرائیل میں یہ پیش رفت علاقائی اور عالمی سطح پر بھی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ نتن یاہو کی سیاسی بقا اور ان کے مخالفین کی حکمتِ عملی دونوں اسی فیصلے سے جڑی ہوئی ہیں۔

عمل یا حل

اب سارا فوکس صدر اسحاق ہرزوگ کے آئندہ فیصلے پر ہے، جو طے کریں گے کہ حکومت سازی کی پہلی کوشش کس کو دی جائے۔ اگر نتن یاہو کو یہ موقع ملتا ہے تو انہیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ تیز مذاکرات کرنا ہوں گے، اور اگر گاڈی آئزن کوٹ کو ترجیح دی گئی تو سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے۔

انتخابی کمیٹی کی رپورٹ نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ سرکاری سطح پر نتائج کو درست مانا جا رہا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت اس فیصلے کو تسلیم کر کے آگے بڑھے گی یا الزامات اور جوابی بیانات سے بحران مزید گہرا ہوگا؟ سوال یہ ہے: جب ادارے نتیجہ درست قرار دے دیں تو کیا سیاست دانوں کو بھی ہار جیت قبول کرنی چاہیے؟