مکمل تفصیلات

اسلام آباد میں جمعرات کو سامنے آنے والی اس رپورٹ نے پاکستان کی جدت کے میدان میں نسبتاً بہتر کارکردگی کو نمایاں کیا۔ ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کی ‘Global Innovation Index 2026’ کے مطابق پاکستان 139 معیشتوں میں 95ویں نمبر پر آ گیا، جب کہ 2025 میں اس کی درجہ بندی 99ویں تھی۔ یوں پاکستان نے 4 درجے ترقی کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے ایک بار پھر “اوورپرفارمر” کا درجہ حاصل کیا ہے، جو اس سے پہلے 2022 اور 2024 میں بھی مل چکا تھا۔ اس درجہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی معیشت اپنی معاشی ترقی کی سطح کے مقابلے میں توقع سے زیادہ جدت پیدا کر رہی ہو۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں پاکستان کی innovation inputs کی رینکنگ 121 رہی، جبکہ innovation outputs 72ویں نمبر پر رہے — اور دونوں اشاریے گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہوئے۔

رپورٹ کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ جدت ہمیشہ آمدن سے نتائج تک سیدھی لائن میں نہیں چلتی، اور کچھ معیشتیں اپنی مخصوص طاقتوں کی بنیاد پر توقع سے زیادہ کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040752/pakistan-overperformer-in-innovation-climbs-4-ranks-globally-in-2026-report

عوامی اثرات

یہ خبر عام پاکستانیوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ عالمی درجہ بندی میں بہتری صرف ایک نمبر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے تعلیمی نظام، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروباری ماحول اور نئی مصنوعات و خدمات کی صلاحیت جیسے عوامل ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان واقعی جدت میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے تو اس کا فائدہ نوکریوں، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل سروسز اور مقامی صنعتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ بہتری صرف رپورٹ تک محدود ہے یا واقعی ملک کے اندر تحقیق، ٹیکنالوجی اور عملی اختراع کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ عوام کے لیے اصل فائدہ تب ہوگا جب یہ رینکنگ اسکولوں، یونیورسٹیوں، صنعت اور نوجوانوں کے روزگار میں نظر آئے، ورنہ یہ صرف ایک خوش کن عدد بن کر رہ جائے گا۔

عمل یا حل

اب اصل امتحان اس بات کا ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ اس بہتری کو مستقل کیسے بناتے ہیں۔ اگر پاکستان نے “اوورپرفارمر” کا درجہ واپس لیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ موجودہ صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کا موقع موجود ہے۔ تحقیق، ہنر، ٹیکنالوجی، پیٹنٹس، اور نئی مصنوعات پر عملی سرمایہ کاری کے بغیر یہ رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ جدت کے میدان میں ان شعبوں پر خاص توجہ دے جہاں کم وسائل کے باوجود زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا ہم اس عالمی بہتری کو صرف خبر سمجھ کر گزر جائیں گے، یا اسے پالیسی، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کے لیے حقیقی مواقع میں بدلیں گے؟