مکمل تفصیلات
اسلام آباد میں عالمی بینک نے خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی پیش رفت کو “moderately unsatisfactory” قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ 727 ملین امریکی ڈالر کے قرض سے چل رہا ہے اور اس کا مقصد خیبرپختونخوا میں ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانا اور قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار بڑھانا ہے۔
عالمی بینک کی عوامی disclosure کے مطابق منصوبے کے development objectives کے حصول کی پیش رفت بھی غیر تسلی بخش رہی، جبکہ مجموعی implementation progress کو “moderately satisfactory” بتایا گیا۔ مجموعی risk rating “substantial” رکھا گیا۔ اس درجہ بندی کی بنیاد پر سیاسی و حکومتی امور اور technical design میں خطرہ “moderate” سمجھا گیا، لیکن macroeconomic، institutional capacity، fiduciary، environmental اور social شعبوں میں خطرات “substantial” قرار دیے گئے۔
منصوبے کے مختلف حصے 2020 میں منظور ہوئے تھے اور اس کی تکمیل کی ہدفی تاریخ 30 نومبر 2027 مقرر ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040474/world-bank-rates-progress-on-kp-hydropower-renewable-energy-project-moderately-unsatisfactory
تاریخِ رپورٹنگ: 29 اکتوبر 2026، 01:37 PKT
عوامی اثرات
یہ خبر صرف ایک بین الاقوامی درجہ بندی نہیں، بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبے کس طرح کاغذی اہداف اور زمینی عملدرآمد کے درمیان پھنس سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا جیسے صوبے کے لیے پن بجلی اور قابلِ تجدید توانائی نہ صرف بجلی کی فراہمی بلکہ صنعتی سرگرمی، روزگار اور روزمرہ لوڈشیڈنگ کے دباؤ سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ جب کسی منصوبے کی پیش رفت کو غیر تسلی بخش کہا جائے تو اس کا اثر براہِ راست عوامی توقعات پر پڑتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ 727 ملین ڈالر جیسے بڑے قرض کے باوجود ادارہ جاتی کمزوریاں، مالی نظم، ماحولیاتی خدشات اور تکنیکی مسائل کیوں برقرار ہیں۔ عام پاکستانی اس طرح کی رپورٹس کو اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ منصوبے واقعی بجلی، سہولت اور ترقی لائیں گے یا پھر تاخیر اور رسک کی نئی فہرست بن جائیں گے۔
عمل یا حل
اب اصل امتحان یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت، متعلقہ محکمے اور منصوبہ چلانے والے ادارے اس “substantial risk” کو کیسے کم کرتے ہیں۔ اگر ادارہ جاتی صلاحیت، مالی شفافیت، ماحولیاتی کلیئرنس اور تکنیکی نگرانی مضبوط نہ کی گئی تو 2027 کی ہدفی تاریخ بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ اس لیے فوری ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ہر کمزور حصے پر واضح ٹائم لائن، ذمہ دار افسران اور پیش رفت کی عوامی نگرانی رکھی جائے۔
عوام کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہمارے ترقیاتی منصوبے واقعی نتائج دے رہے ہیں یا صرف فنڈز اور فائلوں میں چل رہے ہیں؟ بہتر جواب تبھی آئے گا جب حکومت شفاف رپورٹنگ، بروقت اصلاحات اور سخت مانیٹرنگ کرے۔ کیا پاکستان میں بڑے منصوبوں کو صرف اعلان سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے پرکھنے کا وقت نہیں آ گیا؟