مکمل تفصیلات
پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت پر واضح تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو وہ سپورٹ نہیں مل رہی جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ بیان انہوں نے اتوار کے روز پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کے دوران دیا۔
گورنر کے مطابق خیبرپختونخوا کے ساتھ نظراندازی کا سلسلہ اب فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ایسے عملی اقدامات کی ضرورت ہے جیسے پنجاب اور سندھ میں کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ جدید علاج کے طریقے، تحقیق اور طبی آگاہی صرف باتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ان کا فائدہ عام مریض تک پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحت کی سہولتیں صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ merged districts، جنوبی اضلاع اور دور دراز علاقوں میں بھی معیاری اور خصوصی علاج میسر ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری کو برابر رسائی مل سکے۔ ڈان - Home کے مطابق گورنر نے یہ بات بھی کہی کہ مشترکہ کوششوں سے صوبے کی مثبت تصویر بحال کی جا سکتی ہے۔
تاریخ/وقت: اتوار، رپورٹ 2026-11-02 15:37 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2041426/governor-says-centre-failing-to-give-kp-support-it-deserves
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ خیبرپختونخوا کے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب وفاقی تعاون کمزور پڑتا ہے تو اس کا سیدھا اثر صحت، علاج، اسپتالوں کی سہولتوں اور مریضوں کی بروقت دیکھ بھال پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر merged districts اور جنوبی اضلاع کے لوگ پہلے ہی دوری، وسائل کی کمی اور ماہر ڈاکٹروں کی قلت جیسی مشکلات جھیلتے ہیں۔
اگر جدید علاج اور خصوصی سہولتیں صرف بڑے شہروں میں موجود رہیں تو عام آدمی کے لیے بیماری اور بھی مہنگی اور خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ بحث اہم ہے کہ آیا صوبوں کو صرف دعوے مل رہے ہیں یا واقعی وسائل اور ترجیح بھی دی جا رہی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
عمل یا حل
گورنر کے بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ خیبرپختونخوا کے لیے وفاقی سطح پر صحت اور ترقیاتی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ اگر واقعی صوبے کی طبی حالت بہتر بنانی ہے تو بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع، جنوبی علاقوں اور دور افتادہ بستیوں میں بھی اسپتالوں، ماہر ڈاکٹروں اور جدید علاج کی سہولتیں بڑھانا ہوں گی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی نعرے نہیں بلکہ عملی منصوبے سامنے آئیں: فنڈز کی منصفانہ تقسیم، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، اور ایسے نظام کی تشکیل جس میں ہر مریض کو اس کے علاقے میں بنیادی اور خصوصی علاج مل سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وفاق اور صوبہ مل کر یہ خلا پُر کریں گے، یا خیبرپختونخوا پھر صرف وعدوں پر ہی گزارا کرتا رہے گا؟