مکمل تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس موشن اختر کیانی نے بدھ کے روز استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کی وجہ ذاتی بتائی گئی، جن میں حالیہ آپریشن کے بعد صحت کے مسائل اور "reasons of conscience" یعنی ضمیر کی بنیاد پر فیصلہ شامل تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وہ حالیہ reshuffle کے بعد راولپنڈی رجسٹری میں سنگل بنچ کی سربراہی کے لیے دوبارہ ٹوئن سٹیز واپس آئے تھے۔

جسٹس کیانی کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ انہیں اپریل 2026 میں لاہور ہائیکورٹ منتقل کیا گیا تھا اور لاہور میں ہائیکورٹ کے principal seat پر تعینات کیا گیا۔ اس کے باوجود، بطور سینئر جج انہیں کوئی division bench نہیں دی گئی۔ اس سے پہلے وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے senior puisne judge رہے اور ان سے چیف جسٹس بننے کی توقع بھی کی جا رہی تھی۔

خبر کے مطابق، جسٹس ساردار محمد سرفراز ڈوگر کی لاہور ہائیکورٹ سے منتقلی، اور سندھ و بلوچستان ہائیکورٹس کے دو دیگر ججوں کی منتقلی نے جسٹس کیانی کو inter-high court transfers کو چیلنج کرنے پر آمادہ کیا۔ بعد میں سپریم کورٹ کے constitutional bench نے IHC میں ان منتقلیوں کو برقرار رکھا۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040428/lhcs-justice-mohsin-akhtar-kayani-hangs-up-robes
تاریخِ اشاعت: 28 اکتوبر 2026، 17:47 PKT

عوامی اثرات

یہ معاملہ صرف ایک جج کے استعفے تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں تقرریوں، تبادلوں اور ادارہ جاتی فیصلوں پر ایک نئی بحث چھیڑتا ہے۔ جب ایک سینئر جج، جو چیف جسٹس بننے کی صف میں شمار ہو رہا ہو، اچانک استعفیٰ دے تو اس کے اثرات عدالتی اعتماد، اندرونی نظم اور عوامی تاثر سب پر پڑتے ہیں۔

عام شہریوں کے لیے بھی یہ خبر اہم ہے کیونکہ ہائیکورٹس کے فیصلے، بنچوں کی تشکیل اور ججز کی تقرریاں براہِ راست انصاف کی رفتار اور شفافیت سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایسے تنازعات سے یہ سوال مزید نمایاں ہوتا ہے کہ عدلیہ کے اندر تبادلوں اور ذمہ داریوں کے فیصلے کس حد تک واضح اور قابلِ قبول ہیں۔

عمل یا حل

اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس موشن اختر کیانی کے استعفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں انتظامی اور عدالتی سطح پر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ اگر ان کے استعفے کی منظوری ہو جاتی ہے تو یہ ایک اور مثال بن جائے گی کہ عدلیہ کے اندرونی فیصلے کب اور کیسے بڑے ادارہ جاتی سوالات پیدا کرتے ہیں۔

اس خبر نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں تبادلوں، بنچوں کی تشکیل اور سینیارٹی کے معاملات کتنے شفاف ہونے چاہییں۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان میں عدالتی نظام کو ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ججز کے لیے زیادہ واضح، یکساں اور قابلِ پیش گوئی ہوں، تاکہ ادارہ جاتی اعتماد کمزور نہ پڑے؟